بڑے بھائی پر شرعی کیس

 *اللہ تعالی کے عدالت میں بھائی پر شرعی کیس*

محترم انجینئر نذیر ملک صاحب (سرگودھا)، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

آپ کا یہ تفصیلی خط اور اس کے اندر چھپا ہوا ایک ایک لفظ آپ کے دل کے اس گہرے دکھ، صدمے اور مٹتے ہوئے خونی رشتوں کے درد کا آئینہ دار ہے۔ پردیس کی محنت سے بنائے گئے تین مکانوں کا کرایہ اور زندگی بھر کی پونجی (۵ کروڑ روپے) غصب ہو جانا ایک طرف، مگر سگے بھائی کا ایسا تکبر، اور پھر اس کے بعد سگے داماد (بھتیجے) کا گھر کی دہلیز پر کھڑا کر کے اندر نہ آنے دینا انسان کی روح کو اندر سے چھلنی کر دیتا ہے۔

آپ نے بالکل درست فرمایا کہ یہ رقم ماہانہ بنیادوں پر بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ آپ کا حقِ حلال آج بھی ان کے قبضے میں ہے۔ آپ کا یہ عزم کہ آپ نے اپنا فیصلہ احکم الحاکمین (اللہ تعالیٰ) کی عدالت پر چھوڑ دیا ہے، ایک مومن کا سب سے مضبوط اور آخری سہارا ہے۔

آپ کی ہدایت کے مطابق، پچھلے تمام شرعی و علمی حقائق اور آپ کی موجودہ صورتحال کو یکجا کر کے ایک جامع اور باحوالہ "حقائق نامہ و شرعی مقدمہ" (کیس) تیارکیا گیا ہے۔

 تاکہ آپ اسے اپنے عزیز و اقارب، بھائی کے سالوں اور لواحقین (بیٹے/داماد) کو دکھا سکیں، شاید کہ کسی کے دل میں خدا کا خوف جاگ اٹھے۔


حقائق نامہ و شرعی مقدمہ: ایک مظلوم بھائی کی پکار اور لواحقین کے لیے لمحۂ فکریہ


تحریر و پیش کش:

انجینئر نذیر ملک (سرگودھا)

تاریخ: اتوار ۵ جولائی ۲۰۲۶ء

تمہید:

یہ تحریر کسی دنیاوی عدالت کے لیے نہیں، بلکہ خاندان کے معززین، برادری کے احباب اور مرحوم بھائی کے لواحقین کے لیے ایک اتمامِ حجت اور شرعی یاد دہانی ہے، تاکہ کل قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں معلوم نہ تھا۔ پردیس (سعودی عرب) کی تپتی دھوپ میں خون پسینہ بہا کر کمائی گئی ۵ کروڑ روپے کی جمع پونجی اور تین مکانات، جو مرحوم بھائی نے دھوکے سے اپنے نام کروا لیے تھے، آج ان کی اولاد اور وارثین کے قبضے میں ہیں اور ماہانہ کرایوں کی شکل میں اس غصب شدہ رقم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

۱۔ دنیاوی ثبوتوں کو مٹانا اور اللہ کی عدالت:

مرحوم نے زندگی میں تکبر سے کہا تھا کہ میں نے کوئی ثبوت نہیں چھوڑا، جو چاہو کر لو۔ دنیا کے قانون کو دھوکہ دینا ممکن ہے، لیکن اس ذات کو نہیں جو دلوں کے بھید جانتی ہے۔ قرآنِ کریم کی سورہ الطارق (آیت ۹ اور ۱۰) میں ارشاد ہے:

يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ

ترجمہ: جس دن دلوں کے چھپے ہوئے بھید جانچے جائیں گے، تو اس دن انسان کے پاس نہ خود کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی مددگار۔

نیز سورہ مجادلہ (آیت ۶) میں اللہ فرماتا ہے:

أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ

ترجمہ: اللہ نے اس سب کو گن رکھا ہے اور یہ اسے بھول گئے ہیں، اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

چنانچہ مٹائے گئے ثبوت کل قیامت کے دن انسان کے اپنے اعضاء کی گواہی سے دوبارہ زندہ ہوں گے۔

۲۔ عذابِ الٰہی کو ہلکا جاننا اور یہودیانہ ذہنیت:

مرحوم کا یہ کہنا کہ اللہ زیادہ سے زیادہ جہنم میں ڈالے گا تو کبھی نہ کبھی نکال ہی لے گا، عین اس گمراہ ذہنیت کی عکاسی ہے جس کی مذمت اللہ نے قرآن میں نام لے کر فرمائی ہے۔ سورہ البقرہ (آیت ۸۰) میں ارشاد ہے:

وَقَالُوا لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں دوزخ کی آگ چند دنوں کے سوا چھو بھی نہیں سکتی۔ آپ فرما دیجیے: کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے رکھا ہے کہ اللہ اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا؟ یا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جس کا تمہیں خود علم نہیں؟

جہنم کا عذاب کوئی مذاق نہیں کہ انسان اسے چند دن کے لیے بھی برداشت کر سکے۔ حقوق العباد کا معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کا مال غصب کرنے والے کو اس وقت تک معاف نہیں فرماتا جب تک مظلوم خود معاف نہ کرے۔ چونکہ زندگی میں کبھی معافی مانگی نہیں گئی اور نہ ہی مظلوم بھائی اب معاف کرنے کو تیار ہے، اس لیے یہ معاملہ نیکیوں اور گناہوں کے تبادلے تک جائے گا۔

۳۔ وارثین اور سالوں کا کردار: شرعی حیثیت:

مرحوم کے بیٹوں (جن میں سے ایک سگا بھتیجا اور داماد بھی ہے) کا یہ کہنا کہ جس کو دیے تھے اسی سے لو، اور چچا کو اس گھر کی دہلیز میں داخل نہ ہونے دینا جس کی بنیادوں میں اسی مظلوم چچا کا پیسہ لگا ہے، شرعاً سراسر ظلم ہے۔ اسی طرح بھائی کے سالوں کا اپنی بہن کے دنیاوی فائدے کے لیے حق بات پر کھڑے ہونے سے انکار کرنا، عصبیت اور گناہ میں تعاون ہے۔

شریعتِ اسلامی کا متفقہ اصول ہے کہ مرنے والے کے ترکے (جائیداد) پر وارثین کا حق اس وقت تک قائم نہیں ہوتا جب تک مرنے والے کا قرض ادا نہ کر دیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے جامع ترمذی (حدیث نمبر ۱۰۷۸) میں فرمایا:

نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ

ترجمہ: مومن کی روح اپنے قرض کی وجہ سے معلق (اٹکی ہوئی) رہتی ہے، جب تک کہ اس کی طرف سے وہ قرض ادا نہ کر دیا جائے۔

اگر وارثین اس غصب شدہ جائیداد اور مکانوں کے کرایوں پر قابض ہیں، تو وہ اپنے والد کی روح کو عذاب میں مبتلا رکھنے کے ذمہ دار ہیں، اور وہ خود بھی حرام مال کھانے اور ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔ یہ مال ان کی اولادوں کے لیے بھی فتنہ بنے گا اور اس کی تقسیم پر ان کے درمیان ایسی لڑائی ہوگی کہ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا، کیونکہ حرام مال کبھی راس نہیں آتا۔

۴۔ مظلوم کا آخری فیصلہ اور التجا:

میں نے اپنا معاملہ اور اپنا انصاف دنیا کے بے بس قوانین اور سنگدل رشتوں سے اٹھا کر کائنات کے سب سے بڑے منصف، اللہ رب العزت کی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ میرا اپنے اللہ کے عدل پر کامل ایمان ہے۔ اس نے اپنے بچوں کو دوسروں کا مال غصب کر کے کروڑ پتی کر دیا اور میرے بچوں کو مفلس، یہ سگے بھائی کا کھلا ظلم تھا جس کا فیصلہ اب قیامت کے دن ہی ہوگا۔

میری اللہ تعالیٰ کے حضور یہی التجا ہے: اے اللہ! مجھے اپنی جناب سے انصاف دے، تجھ سے بہتر کوئی انصاف کرنے والا نہیں۔

انجینئر صاحب، یہ کیس اب ایک باقاعدہ دستاویز کی شکل میں تیار ہے۔ آپ اسے جوں کا توں پرنٹ کروا کر یا پیغام کی صورت میں اپنے داماد، بھتیجوں، بھائی کے سالوں اور برادری کے معززین کو بھیج سکتے ہیں۔ یہ ان کے لیے ایک ایسی شرعی تنبیہ ہے جو ان کی دنیا اور آخرت دونوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے، اگر ان کے دلوں میں رتی برابر بھی ایمان باقی ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کی غائبانہ مدد فرمائے، آپ کو صبرِ جمیل دے اور اپنی غیبی تجوریوں سے آپ کو وہ انصاف اور نعم البدل عطا فرمائے جس کا کوئی انسان تصور بھی نہ کر سکے۔

آمین، ثُم آمین۔ یا رب العالمین


انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 

اتوار 05 جولائی 2026

تبصرے