یزیدیت کا جدید روپ

 *یزیدیت کا جدید روپ اور مسلم امہ کا زوال*


منگل 07 جولائی 2026

تحقیق و تحریر:

انجینیئر نذیر ملک سرگودھا 


تاریخِ انسانیت میں معرکہ کربلا محض ایک وقتی سیاسی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ دو متضاد نظریات اور فکری رویوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف امام حسین علیہ السلام کی صورت میں حق، عدل، اصول پسندی اور قرآنی نظام کی پاسداری تھی، تو دوسری طرف یزید کی شکل میں ظلم، ملوکیت، اقربا پروری اور اخلاقی پامالی کا نظام تھا۔ چودہ سو سال گزرنے کے بعد آج جب ہم مسلم معاشروں اور ریاستوں کا فکری اور تحقیقی جائزہ لیتے ہیں، تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جس یزیدی مائنڈ سیٹ کے خلاف امام عالی مقام نے قربانی دی تھی، وہ بدقسمتی سے آج کے مسلم معاشروں میں بدرجہ اتم موجود ہے۔


یزیدی سوچ کے تین بڑے مظاہر اور موجودہ مسلم قوم:


تحقیقی نقطہ نظر سے یزیدیت کسی فردِ واحد کا نام نہیں بلکہ ایک مخصوص طرزِ عمل کا نام ہے۔ یزید کے دور کے تین بڑے سیاسی اور معاشرتی نظریات تھے، جن کا موازنہ اگر آج کے مسلم ممالک سے کیا جائے تو تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے۔

پہلا مظہر ملوکیت اور خاندانی اجارہ داری ہے۔ یزید کا اقتدار میں آنا اسلامی نظامِ خلافت، میرٹ اور شوریٰ کی نفی تھا، جہاں قابلیت کی جگہ خاندانی عصبیت کو ترجیح دی گئی۔ آج دنیا کے ستاون مسلم ممالک کی اکثریت کو دیکھ لیجیے، کہیں مطلق العنان بادشاہتیں ہیں، کہیں موروثی سیاست ہے، اور کہیں مخصوص خاندانوں کی اجارہ داریاں قائم ہیں۔ امت کا عام اور اہل فرد قیادت کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔


دوسرا مظہر قانون کی پامالی اور معاشی عدم مساوات ہے:


 یزید کے دور میں بیت المال یعنی عوام کا پیسہ چند اشرافیہ کے ہاتھوں کی جاگیر بن چکا تھا اور قانون صرف کمزور پر نافذ ہوتا تھا۔ آج مسلم دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن، قانون کی بے توقیری اور طبقاتی نظام ہے۔ امیر کے لیے قانون اور رعایتیں الگ ہیں، جبکہ غریب کے لیے انصاف کا حصول ایک خواب بن چکا ہے۔


تیسرا مظہر مصلحت پسندی اور ضمیر کی موت ہے:


کربلا کے المیے کے وقت کوفہ کے لوگوں کے دل امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے، لیکن ان کی تلواریں ابنِ زیاد کے خوف اور یزیدی مال و زر کے لالچ میں اپنے ہی امام کے خلاف اٹھ گئیں۔ آج مسلم قوم کا سب سے بڑا المیہ یہی کوفی مائنڈ سیٹ ہے۔ عام مسلمان کا ضمیر مصلحتوں، خوف، ذاتی مفادات اور فرقہ واریت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ لوگ حق کو حق جانتے ہوئے بھی مصلحت کا شکار ہو کر باطل کے سامنے خاموش رہتے ہیں۔


جدید مسلم ریاستیں اور قرآنی روح کا فقدان:


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں کوئی ایسا ملک موجود ہے جو سو فیصد اسلامی روح رکھتا ہو اور جہاں قرآن نافذ العمل ہو؟ سچائی پر مبنی تحقیقی جواب یہ ہے کہ آج روئے زمین پر ایک بھی ایسا ملک موجود نہیں ہے جسے کامل اسلامی روح کا حامل کہا جا سکے۔

کچھ ممالک میں آئینی طور پر قرآن و سنت کو بالادستی حاصل ہے، حدود و تعزیرات کے قوانین بھی نافذ ہیں اور عدالتی نظام میں بھی اسلام کا نام استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہ صرف ایک ظاہری اور قانونی ڈھانچہ ہے۔ اسلام صرف سزاؤں یا چند عبادات کے نفاذ کا نام نہیں ہے۔ اسلام کی اصل روح سماجی انصاف، انسانی حقوق، معاشی مساوات، حکمرانوں کا کڑا احتساب، اور رائے کی آزادی ہے۔ جب ہم اس اصل کسوٹی پر مسلم ممالک کو پرکھتے ہیں تو رزلٹ انتہائی مایوس کن نکلتا ہے۔ مسلم دنیا میں نہ تو معاشی انصاف ہے جہاں زکوٰۃ کا نظام غربت کا خاتمہ کر سکے، نہ انسانی حقوق کا احترام ہے، اور نہ ہی حکمران خود کو قانون کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں۔

عالمی تحقیقاتی اشاریے کیا کہتے ہیں؟

اس ضمن میں مغربی جامعات کے مسلم اور غیر مسلم سکالرز کی ایک مشترکہ تحقیق قابلِ غور ہے،

جسے اسلامی انڈیکس کا نام دیا گیا ہے۔  


اسلامی انڈیکس کی رپورٹ:


 انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں عدل، معیشت، انسانی حقوق، گورننس اور تعلیم کے اصول مرتب کیے اور پھر دیکھا کہ دنیا کے کون سے ممالک ان اصولوں پر سب سے زیادہ عمل کرتے ہیں۔ اس تحقیق کا رزلٹ حیران کن اور فکر انگیز تھا کہ پہلے بیس ممالک میں ایک بھی مسلم ملک شامل نہیں تھا۔ نیوزی لینڈ، کینیڈا اور اسکینڈینیوین ممالک اس انڈیکس میں سب سے اوپر آئے۔ کیونکہ وہاں قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے، معاشی انصاف ہے، اور کمزور کو ریاست تحفظ دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مشہور مصری سکالر مفتی محمد عبدہ نے اپنے سفرِ مغرب سے واپسی پر ایک تاریخی جملہ کہا تھا کہ 

"میں نے مغرب میں اسلام دیکھا مگر مسلمان نہیں دیکھے، اور اپنے ملک میں مسلمان دیکھے مگر اسلام نہیں دیکھا"


حاصلِ تحقیق:

حقیقت یہی ہے کہ ہم نے اسلام کو صرف نعروں اور مساجد تک محدود کر دیا ہے۔ قرآن کی وہ روح جو ایک انسان کو دوسرے انسان کا ہمدرد بناتی ہے، جو عدل و انصاف قائم کرتی ہے، اور جو یزیدی سوچ یعنی ظلم و جبر کے خلاف کھڑا ہونا سکھاتی ہے، وہ آج مسلم ممالک کے سماج اور سیاست سے غائب ہے۔ مسلم قوم کو اپنے زوال سے نکلنے کے لیے دوبارہ اسی حسینی اصول یعنی حق، انصاف اور اصول پر سمجھوتہ نہ کرنے کے جذبے کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔


الدعاء 

یا اللہ ہمیں اپنے ممالک میں اسلام پریکٹیکلی نافذ کرنے کی توفیق دے،


 آمین یا رب العالمین


Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

تبصرے